اٹھائیس اکتوبر کی صبح، برازیل کے شہر ریو دے جینیرو کی فضاؤں میں اچانک گولیوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
فوٹوگرافر برونو اتان ابھی نیند سے بیدار ہی ہوئے تھے کہ ان کے فون پر پیغامات کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
افواہوں میں ایک ہی بات تھی:
’’الیماؤ میں فائرنگ ہو رہی ہے!‘‘
یہ وہی علاقہ تھا جہاں برونو پلا بڑھا تھا — جہاں اس نے بچپن کے بے شمار دن گزارے تھے۔
اسی صبح ریو کی سول اور ملٹری پولیس نے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا، جسے بعد میں حکومت نے "تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن" قرار دیا۔
خون سے رنگی صبح
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہ کارروائی جرائم پیشہ تنظیم کومانڈو ورمیلہو (Comando Vermelho) کے خلاف کی گئی تھی، جو الیماؤ اور پینہا کمپلیکس میں سرگرم تھی۔
تقریباً ڈھائی ہزار پولیس اہلکار اس آپریشن میں شریک تھے۔
جب دھواں چھٹا، تو منظر ہولناک تھا — 121 افراد ہلاک اور 113 گرفتار۔
ریاستی گورنر نے اسے “جرائم کے خلاف کامیاب کارروائی” کہا۔
مگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے “قتلِ عام” قرار دیا۔
’’برازیل میں سزائے موت نہیں، لیکن اس دن پولیس نے فیصلہ کیا کہ کون جئے گا اور کون مرے گا۔‘‘
برونو اتان، جو خود 2011 سے 2017 تک ریو کی حکومت کے سرکاری فوٹوگرافر رہ چکے تھے، اس کارروائی کو کامیابی نہیں سمجھتے۔
ان کے مطابق، یہ دن برازیل کے عدالتی نظام کے منہ پر ایک سوالیہ نشان تھا۔
’’برازیل میں سزائے موت نہیں ہے،‘‘ برونو نے کہا۔
’’لیکن 28 اکتوبر کو الیماؤ اور پینہا میں پولیس نے خود فیصلہ کیا — کون زندہ رہے گا اور کون مرے گا۔‘‘
خطرے کے باوجود برونو موقع پر پہنچے — کیونکہ وہ علاقہ ان کا اپنا تھا۔
صبح دس بجے وہ وہاں موجود تھے، کیمرہ ہاتھ میں، دل دہلا دینے والے مناظر کے بیچ۔
گولیوں کی آواز، جلتی گاڑیاں، اور خوف زدہ لوگ
برونو کے مطابق جب وہ علاقے میں داخل ہوئے تو ہر طرف تباہی پھیلی ہوئی تھی۔
گاڑیاں جلی ہوئی تھیں، دیواروں پر گولیوں کے نشانات، اور لوگ گھروں میں چھپے کانپ رہے تھے۔
’’میں نے فائرنگ دیکھی، دھواں دیکھا، اور لوگوں کے چہروں پر خوف۔
میں نے سب کچھ ریکارڈ کیا — کیونکہ یہ سچ دنیا کو جاننا چاہیے۔‘‘
قریب ہی گیٹوئلو ورگاس اسپتال میں لاشوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔
ایک وقت پر اسپتال کے اسٹاف نے بتایا کہ 64 لاشیں لائی جا چکی ہیں — جن میں کچھ پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
میڈیا پر پابندی، مگر برونو اندر پہنچ گیا
پینہا کمپلیکس میں میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی لگا دی گئی تھی۔
’’پولیس نے لائن کھینچ کر کہا، میڈیا اس سے آگے نہیں جا سکتا،‘‘ برونو بتاتے ہیں۔
’’پھر انہوں نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔‘‘
مگر برونو جانتا تھا کہ اندر کیسے جانا ہے۔ وہ ان گلیوں میں پلا بڑھا تھا۔
جب وہ اندر پہنچے تو منظر دل دہلا دینے والا تھا۔
رات گئے مقامی لوگ اپنے لاپتا رشتہ داروں کو ڈھونڈنے نکلے۔
حکومتی اعداد و شمار سے حقیقت میل نہیں کھا رہی تھی — لوگ خود لاشیں تلاش کر کے لانے لگے۔
’’ہم نے دیکھا کہ لوگ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر لاشیں لائے،
انہیں کپڑوں سے ڈھانپا ہوا تھا۔ وہ اپنے بیٹے، بھائی، شوہر تھے۔‘‘
سرکاری بیانات اور حقیقت کا فرق
ریو پولیس کے سیکریٹری فیلیپے کوری کا کہنا تھا کہ پولیس نے اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیا ہے،
اور ان کے بقول کچھ لاشوں کو "منظر عام پر لانے سے پہلے تبدیل کیا گیا تھا"۔
لیکن برونو کے مطابق سچ کچھ اور تھا۔
’’میں نے اپنی آنکھوں سے وہ لاشیں دیکھیں —
کچھ کے چہرے مسخ تھے، کچھ کے ہاتھ یا پاؤں نہیں تھے۔
بعض پر چاقو کے وار کے نشانات تھے۔ یہ کوئی عام آپریشن نہیں تھا — یہ تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے خونی آپریشن تھا۔‘‘
یادوں میں بسی "موت کی بو"
برونو کہتے ہیں کہ آج بھی جب وہ سانس لیتے ہیں،
تو انہیں وہی موت کی بو محسوس ہوتی ہے جو اس دن فضا میں پھیلی تھی۔
’’جہاں میں ہوں وہاں لاشیں نہیں، مگر وہ بو اب بھی میرے ذہن میں ہے۔‘‘
اب وفاقی دفتر نے تمام لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کر لی ہے،
مگر اصل سوال اب بھی زندہ ہے —
کیا ریاست نے قانون کے مطابق کارروائی کی؟
یا انصاف کے نام پر بے گناہ جانیں لی گئیں؟
’’اگر معاشرہ سمجھتا ہے کہ وہ جیت گیا ہے… تو یاد رکھو، ہم سب ہار گئے ہیں۔‘‘
برونو کی آخری بات سب کے دل کو چیر جاتی ہے:
’’جب ایک منشیات فروش مرتا ہے، تو دو یا تین مزید اس دائرے میں پھنس جاتے ہیں۔
اگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جیت ہے، تو یاد رکھو — ہم سب ہار گئے ہیں۔‘‘