غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کے حوالے سے مذاکرات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ حماس اسرائیل سے کئی سرکردہ فلسطینی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے — جن میں وہ شخصیات بھی شامل ہیں جنہیں دنیا میں سب سے طویل قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
ایک فلسطینی ذریعے کے مطابق، حماس کو ابھی تک اُن قیدیوں کی حتمی فہرست موصول نہیں ہوئی جنہیں اسرائیل یرغمالی اسرائیلی شہریوں کے بدلے رہا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے عمل میں تاخیر کا تعلق اسرائیل کے اندرونی دباؤ سے ہے، جہاں کچھ حلقے حماس کے معروف رہنماؤں کی رہائی کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس مسئلے کو "چند گھنٹوں میں حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں
کن فلسطینی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے؟
بی بی سی کے مطابق، حماس نے ثالثوں کے ذریعے جو فہرست پیش کی ہے اس میں مروان برغوثی، عبداللہ برغوثی، ابراہیم حمید، حسن سلامہ، عباس السید اور احمد سعادت جیسے اہم رہنما شامل ہیں۔
غزہ امن معاہدے کے تحت اگر پہلا مرحلہ مکمل ہوتا ہے، تو توقع ہے کہ حماس غزہ میں موجود تمام 47 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جبکہ اس کے بدلے اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں اور زیر حراست 1700 افراد کو آزاد کرے گا۔
عبداللہ برغوثی — "دنیا کا سب سے طویل سزا یافتہ قیدی"
عبداللہ غالب برغوثی، جنہیں "حماس انجینیئر" کے نام سے جانا جاتا ہے، کو 67 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں دنیا میں سب سے طویل قید پانے والا شخص سمجھا جاتا ہے۔
پیشہ کے لحاظ سے انجینیئر، وہ دھماکہ خیز مواد کے ماہر ہیں اور سنہ 2003 میں گرفتار کیے گئے تھے۔ اسرائیل نے ان پر 2001 کے یروشلم بم دھماکے سمیت کئی حملوں کا الزام عائد کیا تھا۔ ان حملوں میں درجنوں اسرائیلی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
اپنی قید کے دوران انہوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں، جن میں مشہور تصنیف "پرنس آف شیڈوز: انجینیئر آن دی روڈ" شامل ہے، جس میں انہوں نے اپنی زندگی اور جدوجہد کا ذکر کیا ہے۔
مروان برغوثی — فلسطینی سیاست کا اہم چہرہ
فتح تحریک کے رہنما مروان برغوثی نے نوجوانی میں ہی فلسطینی سیاست میں قدم رکھا اور یاسر عرفات کے قریبی ساتھی رہے۔
انہیں 2002 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الاقصیٰ شہدا بریگیڈز کے قیام کا الزام عائد کیا گیا۔ اسرائیلی عدالت نے انہیں پانچ بار عمر قید اور 40 سال اضافی قید کی سزا سنائی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر مستقبل میں کوئی امن معاہدہ طے پاتا ہے تو مروان برغوثی فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کے لیے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں۔
ابراہیم حمید — حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر
ابراہیم حمید کو اسرائیل میں "سب سے خطرناک قیدی" کہا جاتا ہے۔ وہ مغربی کنارے میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ رہے ہیں۔
ان پر 46 اسرائیلیوں کے قتل کا الزام تھا، جس پر انہیں 54 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ کئی سال قید تنہائی میں رہنے کے باوجود وہ فلسطینی مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
احمد سعادت — پاپولر فرنٹ کے سیکریٹری جنرل
احمد سعادت پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین (PFLP) کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ انہیں 2006 میں گرفتار کیا گیا اور 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
انہوں نے جیل میں رہتے ہوئے "ایکوز آف دی چین" کے عنوان سے کتاب لکھی جس میں اسرائیلی جیلوں میں قید تنہائی کی پالیسی پر روشنی ڈالی گئی۔
حسن سلامہ — قسام بریگیڈ کے عسکری رہنما
حسن سلامہ کا تعلق خان یونس سے ہے اور وہ 1996 کے اسرائیلی بس بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ اسرائیل نے ان پر "ہولی ریوینج" کارروائیوں کا الزام عائد کیا۔
انہیں 48 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے اور وہ گزشتہ 30 سال سے زائد قید کاٹ رہے ہیں۔
عباس السید — پاس اوور حملے کا ملزم
عباس السید تلکرم سے تعلق رکھتے ہیں اور 2002 کے نیتنیہ ہوٹل بم دھماکے کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ اسرائیل کے مطابق اس حملے میں 30 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوئے۔
انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی اور کئی برس قید تنہائی میں رکھا گیا۔
نتیجہ
حماس کی جانب سے ان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ امن معاہدے کے نفاذ کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ رہنما فلسطینی جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے ہیں، اور ان کی رہائی کو فلسطینی عوام "قومی مزاحمت کی فتح" کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment