کیمبرج کی رہائشی فینیلا رولنگ کے لیے وہ دن کبھی نہیں بھولنے والا تھا جب ان کا نیا آئی فون 16 اگست کو شاپنگ کے دوران چوری ہو گیا۔
بس ایک لمحہ — ایک بجلی کی بائیک کی آواز، ایک تیز ہاتھ — اور ان کی پوری ڈیجیٹل زندگی
بدل گئی۔
یادیں جو کبھی واپس نہیں آئیں گی
اس فون میں فینیلا کی والدہ کی وہ قیمتی تصاویر تھیں جو پھیپھڑوں کے لا علاج کینسر میں مبتلا ہیں۔
بدقسمتی سے ان کا آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ فعال نہیں تھا، اور سب یادیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئیں۔
فینیلا نے روتے ہوئے کہا،
"میں نہیں جانتی میری ماں کے ساتھ کتنا وقت باقی ہے، اور میں کچھ اور نہیں کھونا چاہتی۔"
فون کہاں پہنچا؟ لندن → دبئی → چین
فینیلا نے “Find My iPhone” کے ذریعے اپنا فون ٹریک کیا۔
پہلے فون لندن جانے والی ٹرین میں تھا، پھر دبئی اور آخر میں چین جا پہنچا۔
اس کے بعد انھیں جعلی پیغامات آنے لگے جن میں ان سے اکاؤنٹ کی تفصیلات مانگی جا رہی تھیں۔
لندن میں فون چوریوں میں خوفناک اضافہ
لائسنس یافتہ ٹیکسی ڈرائیور ایسوسی ایشن کے سربراہ پال برینن کے مطابق:
"فون چوریوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، لندن اب چوروں کے لیے جنت بن چکا ہے۔"
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں 1,17,000 سے زائد فون چوری ہوئے — جو 2019 کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔
چور عام طور پر الیکٹرک بائیکس یا سکوٹرز استعمال کرتے ہیں جو 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک
جا سکتے ہیں، اور ماسک پہنے ہوتے ہیں تاکہ شناخت نہ ہو۔
پولیس کا جوابی وار
میٹروپولیٹن پولیس نے چوروں کے تعاقب کے لیے ہائی پاور بائیکس اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
افسر ریان پیری کہتے ہیں:
"اب جب چور ہمیں ان ہی بائیکس پر دیکھتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں۔"
ایئر یونٹ کے افسر گلین واکر نے بتایا کہ ان کے ہیلی کاپٹرز میں نصب کیمرے چوروں کے چہرے زوم کر کے ریکارڈ کر سکتے ہیں — جس سے ان کی شناخت آسان ہو جاتی ہے۔
“پک پاکٹ ہنٹر” کی کہانی
لندن میں فون چوروں سے لڑنے والوں میں صرف پولیس ہی نہیں، بلکہ کچھ عام شہری بھی شامل ہیں۔
ڈیاگو گالڈینو ایک ڈیلیوری ڈرائیور ہیں جو خود کو "Pickpocket Hunter" کہتے ہیں۔
وہ شہر میں چوریوں کی ویڈیوز بناتے ہیں اور انہیں آن لائن پوسٹ کرتے ہیں۔
ان کے اکاؤنٹ “Pickpocket London” نے چند مہینوں میں لاکھوں ویوز حاصل کیے۔
ڈیاگو کہتے ہیں:
"چور گروہوں میں کام کرتے ہیں، وہ ہمیشہ چہروں کو ڈھانپتے ہیں۔ اگر میں کسی کو چوری کرتے دیکھوں تو فوراً چیختا ہوں تاکہ وہ بھاگنے سے پہلے پکڑا جائے۔"
روزانہ لندن آنے والے چور
برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے مطابق، کچھ چور روزانہ دوسرے شہروں سے لندن آتے ہیں صرف فون چوری کرنے کے لیے۔
ایک افسر نے بتایا:
"ہم نے ایک شخص کو دیکھا جو روزانہ پورٹسماؤتھ سے لندن آتا ہے — فون چوری کرنا اس کا پیشہ ہے۔"
پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً 600 سے زیادہ افراد ایسے منظم نیٹ ورکس کا حصہ ہیں جو صرف موبائل چوری کے لیے سرگرم ہیں۔
نتیجہ
لندن جیسے شہر میں جہاں جدید ٹیکنالوجی، تیز رفتار بائیکس اور گلوبل کنیکشنز ہیں، وہاں چوری بھی بین الاقوامی سطح پر جا پہنچی ہے۔
ایک فون صرف چند گھنٹوں میں یورپ سے مشرقِ وسطیٰ اور پھر ایشیا پہنچ سکتا ہے۔
لیکن اس سب میں نقصان صرف مالی نہیں — بلکہ انمول یادوں، اعتماد اور سکون کا بھی ہوتا ہے۔
کیا آپ نے بھی کبھی لندن یا کسی اور شہر میں ایسا تجربہ کیا ہے؟
کمنٹ میں اپنی کہانی ضرور شیئر کریں۔
No comments:
Post a Comment