اٹھائیس اکتوبر کی صبح چھ بجے کا وقت تھا۔ فوٹوگرافر برونو اتان موبائل فون پر آنے والے پیغامات کی آواز سے چونک کر بیدار ہوئے۔
پیغامات میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی: “الیماؤ میں فائرنگ ہو رہی ہے!”
یہ خبر ان کے لیے محض ایک اطلاع نہیں تھی — یہ وہی علاقہ تھا جہاں وہ پلے بڑھے تھے۔
اسی صبح ریو دے جینیرو پولیس نے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا — ایسا آپریشن جس کی 1990 کے بعد کوئی مثال نہیں ملتی۔
برازیل کی UFF یونیورسٹی کے مطابق یہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا پولیس ایکشن تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق
-
121 افراد ہلاک
-
113 مشتبہ افراد گرفتار
یہ کارروائی جرائم پیشہ تنظیم کومانڈو ورمیلہو کے خلاف الیماؤ اور پینہا کمپلیکس میں کی گئی۔
ریاستی حکومت نے اسے "ریو کی تاریخ کا سب سے بڑا کامیاب آپریشن" قرار دیا، مگر انسانی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک یہ "قتلِ عام" سے کم نہیں تھا۔
"یہ موت کی سزا تھی — عدالت کے بغیر"
برونو اتان، جو خود ان ہی گلیوں کے بیٹے ہیں، کہتے ہیں:
"برازیل میں سزائے موت نہیں، مگر 28 اکتوبر کو پولیس نے فیصلہ کیا کہ کون جئے گا اور کون مرے گا۔"
برونو 2008 سے فوٹوگرافی کر رہے ہیں۔ وہ سرکاری فوٹوگرافر بھی رہ چکے ہیں اور اب نوجوانوں کو فوٹوگرافی سکھانے کا ایک منصوبہ چلا رہے ہیں۔
وہ عام طور پر کچی آبادیوں کی خوبصورتی اور زندگی کو کیمرے میں قید کرتے ہیں، لیکن اس دن ان کے کیمرے نے موت کا چہرہ دیکھا۔
آپریشن کا دن — "ہر طرف گولیاں، جلی گاڑیاں، خوفزدہ لوگ"
صبح دس بجے برونو موقع پر پہنچے۔
ان کے سامنے تباہ حال سڑکیں، گولیوں سے چھلنی دیواریں، اور خوف سے لرزتے لوگ تھے۔
قریب کے گیٹوئلو ورگاس ہسپتال میں لاشوں کا تانتا بندھا تھا۔
ایک وقت میں 64 لاشیں وہاں لائی گئیں — ان میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
میڈیا پر پابندی، خاموشی کا دائرہ
برونو بتاتے ہیں کہ پینہا کمپلیکس میں میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی تھی۔
"پولیس نے ہوائی فائرنگ کی، اور میڈیا کو ایک لکیر سے آگے جانے سے روک دیا۔"
لیکن برونو چونکہ مقامی تھے، وہ اندر تک پہنچ گئے۔
رات کو جب شور تھما تو لوگ اپنے لاپتہ عزیزوں کو ڈھونڈنے نکلے — اور 55 لاشیں خود برآمد کر کے مرکزی شاہراہ پر لے آئے۔
لاشیں کپڑوں سے ڈھکی ہوئی تھیں، کچھ موٹر سائیکلوں پر، کچھ کاروں کے بونٹ پر۔
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ بعض لاشوں میں "تبدیلیاں" کی گئی تھیں، مگر برونو کے مطابق:
"کئی لاشوں کے چہرے مسخ تھے، کسی کا سر نہیں تھا، کسی کے ہاتھ یا پاؤں کٹے ہوئے تھے۔"
"موت کی بو آج بھی محسوس ہوتی ہے"
برونو کہتے ہیں:
"میں نے چاقو کے وار سے ہلاک لوگوں کو دیکھا۔ یہ عام آپریشن نہیں تھا — یہ شاید ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا قتلِ عام تھا۔
آج بھی مجھے وہی بو محسوس ہوتی ہے... جیسے موت میرے آس پاس ہو۔"
تحقیقات اور سوالات
اب فیڈرل پراسیکیوٹر نے تمام لاشوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کر لی ہے۔
سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا پولیس نے سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں کی پاسداری کی؟
لیکن برونو کی آواز مایوسی سے بھری ہے:
"اگر ہمارا معاشرہ سمجھتا ہے کہ وہ جیت گیا، تو یاد رکھے — ہم سب ہار گئے۔
جب ایک شخص منشیات کے کاروبار میں مرتا ہے، تو دو نئے اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔"
ایک فوٹوگرافر کا درد
ریو کی گلیوں میں اب بھی زندگی رواں ہے، مگر برونو کے لیے وہ منظر کبھی ختم نہیں ہوئے۔
ان کے کیمرے میں محفوظ وہ تصویریں اب صرف تصاویر نہیں — تاریخ کی خاموش چیخیں ہیں۔
No comments:
Post a Comment