امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت دو سال قبل 7 اکتوبر کے حملے کے بعد ہونے والی تباہ کن جنگ کے خاتمے کی امید کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پسِ منظر
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں 20 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات
قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ:
“تمام یرغمالی جلد رہا کیے جائیں گے اور اسرائیل اپنی فوج غزہ سے واپس بلائے گا۔”
حماس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ:
-
جنگ کے خاتمے،
-
قابض فوج کے انخلا،
-
انسانی امداد کی فراہمیاور قیدیوں کے تبادلے کو یقینی بنائے گا۔
مذاکرات کے ثالث
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
اگر اسرائیلی کابینہ جمعرات کو اس معاہدے کی منظوری دے دیتی ہے تو:
-
24 گھنٹوں میں فوجی انخلا شروع ہوگا۔
-
72 گھنٹوں کے اندر حماس کو تمام زندہ یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا۔
-
رہائی کا عمل سوموار سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
ابہامات اور چیلنجز
ابھی بھی کئی نکات پر اختلاف باقی ہے، خصوصاً:
-
حماس کا غیر مسلح ہونا، جو ٹرمپ کے منصوبے کا حصہ ہے۔
-
غزہ کے مستقبل کا انتظام، جسے ایک ٹیکنوکریٹ فلسطینی کمیٹی کے سپرد کرنے کی تجویز ہے۔
-
قیدیوں کی فہرست، جو حماس کو ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔
عالمی ردعمل
دنیا بھر سے اس معاہدے پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔
-
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریز نے کہا کہ UN معاہدے پر عملدرآمد میں مدد کرے گا۔
-
برطانوی اور آسٹریلوی وزرائے اعظم نے اسے امن کی طرف بڑا قدم قرار دیا۔
-
امریکی سینیٹرز نے بھی محتاط انداز میں امید ظاہر کی کہ فریقین اس پر عمل کریں گے۔
غزہ میں عوام نے اس اعلان کے بعد جشن منایا، اور خان یونس کے شہریوں نے کہا کہ
“خدا کا شکر ہے، جنگ ختم ہوئی — امن واپس آ رہا ہے۔”
No comments:
Post a Comment