اٹھائیس اکتوبر کی صبح، برازیل کے شہر ریو دے جینیرو کی فضاؤں میں اچانک گولیوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
’’الیماؤ میں فائرنگ ہو رہی ہے!‘‘
یہ وہی علاقہ تھا جہاں برونو پلا بڑھا تھا — جہاں اس نے بچپن کے بے شمار دن گزارے تھے۔
اسی صبح ریو کی سول اور ملٹری پولیس نے ایک بڑے آپریشن کا آغاز کیا، جسے بعد میں حکومت نے "تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن" قرار دیا۔
خون سے رنگی صبح
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق یہ کارروائی جرائم پیشہ تنظیم کومانڈو ورمیلہو (Comando Vermelho) کے خلاف کی گئی تھی، جو الیماؤ اور پینہا کمپلیکس میں سرگرم تھی۔
’’برازیل میں سزائے موت نہیں، لیکن اس دن پولیس نے فیصلہ کیا کہ کون جئے گا اور کون مرے گا۔‘‘
برونو اتان، جو خود 2011 سے 2017 تک ریو کی حکومت کے سرکاری فوٹوگرافر رہ چکے تھے، اس کارروائی کو کامیابی نہیں سمجھتے۔
ان کے مطابق، یہ دن برازیل کے عدالتی نظام کے منہ پر ایک سوالیہ نشان تھا۔
’’برازیل میں سزائے موت نہیں ہے،‘‘ برونو نے کہا۔’’لیکن 28 اکتوبر کو الیماؤ اور پینہا میں پولیس نے خود فیصلہ کیا — کون زندہ رہے گا اور کون مرے گا۔‘‘
گولیوں کی آواز، جلتی گاڑیاں، اور خوف زدہ لوگ
’’میں نے فائرنگ دیکھی، دھواں دیکھا، اور لوگوں کے چہروں پر خوف۔میں نے سب کچھ ریکارڈ کیا — کیونکہ یہ سچ دنیا کو جاننا چاہیے۔‘‘
میڈیا پر پابندی، مگر برونو اندر پہنچ گیا
پینہا کمپلیکس میں میڈیا کے داخلے پر مکمل پابندی لگا دی گئی تھی۔
’’پولیس نے لائن کھینچ کر کہا، میڈیا اس سے آگے نہیں جا سکتا،‘‘ برونو بتاتے ہیں۔’’پھر انہوں نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔‘‘
’’ہم نے دیکھا کہ لوگ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر لاشیں لائے،انہیں کپڑوں سے ڈھانپا ہوا تھا۔ وہ اپنے بیٹے، بھائی، شوہر تھے۔‘‘
سرکاری بیانات اور حقیقت کا فرق
لیکن برونو کے مطابق سچ کچھ اور تھا۔
’’میں نے اپنی آنکھوں سے وہ لاشیں دیکھیں —کچھ کے چہرے مسخ تھے، کچھ کے ہاتھ یا پاؤں نہیں تھے۔بعض پر چاقو کے وار کے نشانات تھے۔ یہ کوئی عام آپریشن نہیں تھا — یہ تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے خونی آپریشن تھا۔‘‘
یادوں میں بسی "موت کی بو"
’’جہاں میں ہوں وہاں لاشیں نہیں، مگر وہ بو اب بھی میرے ذہن میں ہے۔‘‘
’’اگر معاشرہ سمجھتا ہے کہ وہ جیت گیا ہے… تو یاد رکھو، ہم سب ہار گئے ہیں۔‘‘
برونو کی آخری بات سب کے دل کو چیر جاتی ہے:
’’جب ایک منشیات فروش مرتا ہے، تو دو یا تین مزید اس دائرے میں پھنس جاتے ہیں۔اگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جیت ہے، تو یاد رکھو — ہم سب ہار گئے ہیں۔‘‘
No comments:
Post a Comment