Wednesday, October 8, 2025

غزہ میں بے مثال نقل مکانی: دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا انسانی بحران


 

غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے باعث فلسطینیوں کی نقل مکانی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بے دخلی حالیہ دہائیوں میں کسی اور جگہ نہیں دیکھی گئی اور اسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی سب سے بڑی انسانی ہجرت قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کے 21 لاکھ باشندوں میں سے ہر دس میں سے ایک شخص اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوا ہے۔ سرحدیں بند ہیں اور اسرائیلی فوج کی جانب سے مخصوص علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات نے لاکھوں افراد کو بار بار جگہ بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال کو جبری نقل مکانی قرار دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق عام شہری بار بار خطرے سے بچنے کے لیے ایک غیر محفوظ مقام سے دوسرے غیر محفوظ علاقے کی طرف جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ جیسے چھوٹے اور گنجان آباد علاقے میں محفوظ جگہ کا نہ ہونا انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بیشتر خاندان اب تک چھ سے انیس مرتبہ نقل مکانی کر چکے ہیں۔



حالیہ کارروائیوں کے بعد غزہ کے کئی علاقے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جب کہ رفح، خان یونس اور دیر البلح جیسے علاقوں میں پناہ گزینوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

یروشلم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈینیئل بلاتمین کے مطابق غزہ میں ہونے والی نقل مکانی دنیا کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے کیونکہ یہاں لوگ محاصرے میں ہیں اور مسلسل خطرے سے دوچار ہیں۔



اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی پٹی کا تقریباً 88 فیصد حصہ یا تو تباہ ہو چکا ہے یا خالی کرا لیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے پاس پناہ کے لیے بمشکل نصف مربع میٹر جگہ رہ گئی ہے، جہاں درجنوں افراد ایک ہی خیمے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے کمیشن نے اپنی رپورٹس میں اسے ممکنہ نسل کشی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتا ہے کہ انخلا کے احکامات شہریوں کی حفاظت کے لیے ہیں اور تمام کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق کی جا رہی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ کے 92 فیصد گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ ہزاروں خاندان اب تباہ شدہ عمارتوں، خیموں یا اپنے رشتہ داروں کے تنگ کمروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔


خلاصہ:

غزہ میں جاری تنازعہ ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف نقل مکانی نہیں بلکہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں لاکھوں افراد بار بار اپنی زندگیاں ازسرِنو شروع کرنے پر مجبور ہیں۔

No comments:

Post a Comment

صدر ٹرمپ کا جوہری تجربوں کا اعلان: کیا دنیا ایک نئی ایٹمی دوڑ کے دہانے پر ہے؟

  پسِ منظر دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑی ہے — امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ملک جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع ...