حالیہ مہینوں میں امریکہ کی امیگریشن پالیسی میں نمایاں تبدیلیوں نے ہزاروں انڈین پروفیشنلز کو ایک نئی حقیقت سے روشناس کرایا ہے — کہ شاید "گرین کارڈ" کا خواب اب پورا نہ ہو سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ-1 بی ویزا فیس کو ایک لاکھ ڈالر تک بڑھانے کے بعد دہلی میں پالیسی سازوں نے اپنی توانائیاں ایک نئے ہدف پر مرکوز کر لی ہیں: اپنے ہنر مند شہریوں کو واپس وطن لانا۔
انڈیا کی نئی حکمتِ عملی: دماغوں کی واپسی
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت بیرونِ ملک مقیم ہنرمند انڈین شہریوں کو وطن واپسی کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں براہِ راست حصہ ڈال سکیں۔
انڈیا کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے ایک رکن کے مطابق، ویزا فیس میں اضافہ دراصل انڈیا کے لیے ایک موقع ہے — اپنے عالمی سطح کے ذہنوں کو واپس لانے کا۔
امریکہ میں مایوسی، بنگلور میں نئی شروعات
نتن ہاسن، جو دو دہائیوں تک امریکہ میں مقیم رہے اور میٹا میں دس لاکھ ڈالر سالانہ کماتے تھے، نے گزشتہ سال ایک بڑا قدم اٹھایا: وطن واپسی۔
اب وہ بنگلور میں دو اسٹارٹ اپس چلا رہے ہیں، جن میں سے ایک "B2i" (Back to India) نامی پلیٹ فارم ہے، جو امریکہ میں رہنے والے انڈینز کو وطن واپسی کے جذباتی اور پیشہ ورانہ چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دیتا ہے۔
نتن کے مطابق، حالیہ عرصے میں ایسے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو امریکہ میں رہنے کے بجائے انڈیا واپس آنے پر غور کر رہے ہیں — "اب بہت سے پیشہ ور تسلیم کر چکے ہیں کہ گرین کارڈ شاید کبھی نہ ملے۔"بدلتی دنیا، نئے امکانات
بی ڈی او ایگزیکٹو سرچ کی سی ای او شیوانی دیسائی کے مطابق، آئیوی لیگ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل انڈین طلبہ کی وطن واپسی میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
جرمنی جیسے ممالک نے بھی ہنر مند انڈینز کے لیے سرخ قالین بچھا رکھا ہے، مگر بہت سے سینیئر ایگزیکٹوز اب انڈیا کو ایک "متبادل منزل" کے طور پر سنجیدگی سے دیکھنے لگے ہیں۔
چیلنجز برقرار
سابق وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کے مشیر اور مصنف سنجے بارو کے مطابق، بڑے پیمانے پر "برین گین" کے لیے حکومت کو منظم اور سنجیدہ پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
وہ یاد دلاتے ہیں کہ جواہر لال نہرو نے ماضی میں سائنسی دماغوں کو واپس لا کر انڈیا میں تحقیق و ترقی کی بنیاد رکھی تھی — "آج بھی وہی جذبہ اور مقصد درکار ہے۔"
وطن واپسی کی راہ میں رکاوٹیں
غیر یقینی ضوابط، کمزور انفراسٹرکچر، اور تھکا دینے والی سرکاری کارروائیاں اب بھی انڈیا کی بڑی کمزوریاں ہیں۔
2020 سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد انڈین شہری اپنی شہریت ترک کر چکے ہیں، اور امیر طبقہ اب بھی بیرونِ ملک بہتر مواقع تلاش کر رہا ہے۔
کیا حکومت سنجیدہ ہے؟
نتن ہاسن کہتے ہیں کہ اگر حکومت واقعی واپسی کی لہر چاہتی ہے تو اسے سادہ ٹیکس قوانین، اسٹارٹ اپ ویزا، اور شہری سہولتوں کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔
بارو کے مطابق، تحقیق و ترقی (R&D) اور تعلیم میں سرمایہ کاری ہی وہ کلید ہے جو دوبارہ انڈین ٹیلنٹ کو اپنے وطن کی طرف راغب کر سکتی ہے۔
خلاصہ:
ایچ-1 بی ویزا فیس میں اضافے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے — کیا یہ "برین ڈرین" کے بعد "برین گین" کا آغاز ہو سکتا ہے؟
فی الحال حالات مشکل ضرور ہیں، مگر شاید انڈیا کے لیے یہ لمحہ ایک نئے عہد کی شروعات ثابت ہو۔
No comments:
Post a Comment