تحریر: صنم جاوید | ماخذ: بی بی سی سائنس و طب
ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارا مدافعتی نظام (Immune System) جراثیم، وائرس اور بیکٹیریا سے لڑتا ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ نظام ہمارے اپنے جسم پر کیوں حملہ نہیں کرتا؟ آخر یہ کیسے جانتا ہے کہ کون سا خلیہ "اپنا" ہے اور کون سا "غیر"؟
نوبیل انعام اور ایک حیرت انگیز دریافت
سال 2025 کا طب کا نوبیل انعام تین سائنسدانوں کو دیا گیا — جاپانی محقق شمون ساکاگوچی، اور امریکی ماہرین میری برنکو اور فریڈ ریمزڈیل — جنھوں نے مدافعتی نظام کے "سکیورٹی گارڈز" دریافت کیے۔
یہی خلیے جسم کے اندر ایسے سفید خلیوں کو ختم کرتے ہیں جو غلطی سے اپنے ہی جسم پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔
تھائیمس غدود — مدافعتی نظام کی تربیت گاہ
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نقصان دہ سفید خلیے تھائیمس (Thymus) غدود میں ختم ہو جاتے ہیں — یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمارے سفید خلیے بنتے اور تربیت پاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ عام حالات میں ہمارا جسم خود کے خلاف جنگ نہیں چھیڑتا۔

ریگولیٹری ٹی سیلز — جسم کے محافظ
اس نوبیل انعام کا مرکز ریگولیٹری ٹی سیلز (Regulatory T Cells) ہیں، جو مدافعتی نظام کے محافظ یا سکیورٹی گارڈز کہلاتے ہیں۔
یہ خلیے جسم کے اندر گردش کرتے رہتے ہیں اور ان سفید خلیوں کو روکتے ہیں جو غلطی سے جسم کے اپنے ٹشوز پر حملہ کر سکتے ہیں۔
تحقیق اور تجربات
پروفیسر ساکاگوچی نے جاپان میں چوہوں پر تجربات کیے۔
جن چوہوں کا تھائیمس غدود نکالا گیا، اُن میں خودکار مدافعتی بیماریاں پیدا ہوئیں — یعنی جسم نے خود اپنے اعضا پر حملہ شروع کر دیا۔
لیکن جب صحت مند چوہوں کے مدافعتی خلیے ان میں داخل کیے گئے تو بیماری رک گئی۔
یوں ثابت ہوا کہ جسم میں ایک قدرتی نظام موجود ہے جو اپنے ہی خلاف ہونے والے حملوں کو روکتا ہے۔
امریکی سائنسدانوں نے ایک ایسا جین دریافت کیا جو ان ریگولیٹری ٹی سیلز کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے — اور یہی دریافت طب کی دنیا میں سنگِ میل بن گئی۔
علاج میں نئی راہیں
یہ تحقیق نہ صرف آٹو امیون بیماریوں جیسے ٹائپ ون ذیابطیس اور لیوپس کے علاج کے لیے اہم ہے بلکہ کینسر کے خلاف نئی دواؤں کی تیاری میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
سائنسدان اب کوشش کر رہے ہیں کہ آٹو امیون بیماریوں میں ان محافظ خلیوں کو مضبوط بنایا جائے، جبکہ کینسر کے علاج میں ان کی تعداد محدود کی جائے تاکہ جسم ناسور کے خلاف بھرپور مزاحمت کر سکے۔
نتیجہ
مدافعتی نظام کی یہ دریافت اس بات کی شاندار مثال ہے کہ قدرتی نظام کتنا پیچیدہ اور متوازن ہے۔
جسم کے اندر موجود یہ "چھوٹے محافظ" نہ صرف ہمیں بیماریوں سے بچاتے ہیں بلکہ ہمیں خود سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
good
ReplyDelete