Thursday, October 2, 2025

پسند ہو یا نہ ہو، فوجیں رکھنی ہوں گی – لیکن کس قیمت پر؟

دنیا کی طاقتور افواج کا وجود بظاہر ہماری حفاظت کے لیے ہے، لیکن کیا یہ بھی ممکن ہے کہ یہی فوجیں ایک اور بڑے خطرے — یعنی ماحولیاتی تباہی — کا باعث بن رہی ہیں؟

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات نہ صرف جنگی ماحول کو بھڑکا رہے ہیں بلکہ زمین کے ماحولیاتی نظام پر بھی شدید منفی اثر ڈال رہے ہیں۔



فوجی اخراجات اور ماحولیاتی خطرہ

2024 میں دنیا کے مجموعی فوجی اخراجات 2.7 کھرب ڈالر تک جا پہنچے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہے۔ نیٹو جیسے اتحاد اب اپنے دفاعی بجٹ کو مجموعی قومی آمدنی کے 5 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس بجٹ کا ماحول پر کیا اثر پڑے گا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کی تمام افواج کو ایک "ملک" تصور کیا جائے، تو یہ کاربن کے اخراج میں چین، امریکہ، اور بھارت کے بعد چوتھے نمبر پر آتا ہے۔



فوجی سازوسامان = کاربن مشینیں

لڑاکا طیارے، جنگی ٹینک، بحری جہاز — یہ سب بھاری ایندھن استعمال کرتے ہیں اور بے تحاشہ کاربن خارج کرتے ہیں۔
مثلاً امریکی ایف-35 لڑاکا طیارہ صرف 185 کلومیٹر کی پرواز میں اتنا کاربن خارج کرتا ہے جتنا ایک عام گاڑی پورے سال میں۔

ایک تحقیق کے مطابق امریکی فوج میں صرف جیٹ ایندھن کا استعمال ہر سال اتنے کاربن کے اخراج کا باعث بنتا ہے جتنا 6 ملین کاریں۔



جنگی تنازعات کا ماحولیاتی اثر

روس-یوکرین جنگ کے صرف پہلے دو سالوں میں تقریباً 1.75 کروڑ ٹن گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوئیں۔
اسی طرح غزہ کی جنگ میں 1.9 ملین ٹن کاربن کا اخراج ہوا — جو 36 ممالک کے سالانہ اخراج سے بھی زیادہ ہے۔

ماحول یا دفاع — ترجیح کس کو؟

اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کو ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہر سال ایک کھرب ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن دنیا کے طاقتور ممالک فوجی بجٹ پر اس سے کئی گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔

پانامہ کے نمائندے نے COP29 اجلاس میں کہا:



"ایک دوسرے کو مارنے کے لیے 2.5 کھرب ڈالر بہت نہیں لگتے، لیکن زندگیاں بچانے کے لیے ایک کھرب ڈالر دینا مشکل لگتا ہے۔"

تو حل کیا ہے؟

ریٹائرڈ جنرل نیوجی کا کہنا ہے:

"چاہے ہمیں پسند ہو یا نہیں، فوجیں رکھنی ہوں گی۔ لیکن مضبوط افواج کا مقصد جنگ روکنا ہونا چاہیے، نہ کہ ماحولیاتی تباہی کو تیز کرنا۔"

تاہم حقیقت یہ ہے کہ فوجی ٹیکنالوجی ابھی تک اتنی ماحول دوست نہیں ہو سکی کہ جنگ کے بغیر ہی امن قائم رکھا جا سکے۔



نتیجہ:

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم زمین کو بچانا چاہتے ہیں تو صرف ماحول دوست گاڑیاں یا پودے لگانا کافی نہیں — ہمیں عالمی سطح پر فوجی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات کو بھی سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
ورنہ جنگ تو شاید نہ ہو… مگر زمین خود ہی جنگ کا میدان بن جائے گی۔

No comments:

Post a Comment

صدر ٹرمپ کا جوہری تجربوں کا اعلان: کیا دنیا ایک نئی ایٹمی دوڑ کے دہانے پر ہے؟

  پسِ منظر دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑی ہے — امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ملک جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع ...