دنیا کی طاقتور افواج کا وجود بظاہر ہماری حفاظت کے لیے ہے، لیکن کیا یہ بھی ممکن ہے کہ یہی فوجیں ایک اور بڑے خطرے — یعنی ماحولیاتی تباہی — کا باعث بن رہی ہیں؟
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات نہ صرف جنگی ماحول کو بھڑکا رہے ہیں بلکہ زمین کے ماحولیاتی نظام پر بھی شدید منفی اثر ڈال رہے ہیں۔
فوجی اخراجات اور ماحولیاتی خطرہ
2024 میں دنیا کے مجموعی فوجی اخراجات 2.7 کھرب ڈالر تک جا پہنچے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہے۔ نیٹو جیسے اتحاد اب اپنے دفاعی بجٹ کو مجموعی قومی آمدنی کے 5 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس بجٹ کا ماحول پر کیا اثر پڑے گا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کی تمام افواج کو ایک "ملک" تصور کیا جائے، تو یہ کاربن کے اخراج میں چین، امریکہ، اور بھارت کے بعد چوتھے نمبر پر آتا ہے۔
فوجی سازوسامان = کاربن مشینیں
ایک تحقیق کے مطابق امریکی فوج میں صرف جیٹ ایندھن کا استعمال ہر سال اتنے کاربن کے اخراج کا باعث بنتا ہے جتنا 6 ملین کاریں۔
جنگی تنازعات کا ماحولیاتی اثر
ماحول یا دفاع — ترجیح کس کو؟
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کو ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہر سال ایک کھرب ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن دنیا کے طاقتور ممالک فوجی بجٹ پر اس سے کئی گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
پانامہ کے نمائندے نے COP29 اجلاس میں کہا:
"ایک دوسرے کو مارنے کے لیے 2.5 کھرب ڈالر بہت نہیں لگتے، لیکن زندگیاں بچانے کے لیے ایک کھرب ڈالر دینا مشکل لگتا ہے۔"
تو حل کیا ہے؟
ریٹائرڈ جنرل نیوجی کا کہنا ہے:
"چاہے ہمیں پسند ہو یا نہیں، فوجیں رکھنی ہوں گی۔ لیکن مضبوط افواج کا مقصد جنگ روکنا ہونا چاہیے، نہ کہ ماحولیاتی تباہی کو تیز کرنا۔"
تاہم حقیقت یہ ہے کہ فوجی ٹیکنالوجی ابھی تک اتنی ماحول دوست نہیں ہو سکی کہ جنگ کے بغیر ہی امن قائم رکھا جا سکے۔
No comments:
Post a Comment